• Follow Us on Twitter
  • Follow Us on Twitter

عمران خان کے بارے میں کچھ۔

تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان 25نومبر 1953 کو پیدا ہوئے۔عمران خان 16 سال کی عمر میں 1969 میں آلمی کرکٹ کھیلنا شروع کی ان کے کھیل کا سفر مختلف کامیابیوں سے ہوتا ہوا1992

میں بطور کپتان پاکستان کو ورلڈ کپ جیتوا کر عروج کو پہنچا۔انہوں نے ورلڈ کپ جیت کر پاکستانی عوام کے دل جیت لیئے۔

شوکت خانم کینسر ہسپتال ۔
عمران خان کی والدہ کینسر جیسے موزی بیماری کا شکار ہو کر دنیا فانی سے کوچ کر کے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔اس واقع نے عمران خان کی زندگی کا رُخ بدل دیا اور انہوں نے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کی بنیاد رکھی اور اسے تکمیل تک پہنچایا۔یہ ہسپتا ل کینسر کے مریضوں کے لیئے ہر قسم کی سہولتوں سے آراستہ اور مفت طبی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔شوکت خانم کینسر ہسپتال کے قیام کے بعد عمران خان پاکستان اور بیرونِ ملک میں درد مند انسان اور سماجی کارکن بن کر اُبھرے۔عمران خان نے نمل یونیورسٹی بنا کر ایک اورروشن باب رقم کیا۔باصلاحیت اور پلے بوائے کے نام سے مشہور عمران خان کی ملاقات ایک روحانی شخصیت میاں بشیر سے ہوئی اور ان کی زندگی کا رُخ بدل گیا۔عمران خان نے پھر سیاست وسیع و عریض مید ان میں اپنا پہلا قدم رکھا۔
عمران خان کا روحانیت پر یقین۔
عمران خان روحانیت پر بہت یقین رکھتے ہیں اور انہیں کینسر ہسپتال کے قیام کی طرف راغب کرنے کا سہرا بھی روحانی سخصیت محمد بشیر کے سر ہے۔جنہوں نے عمران خان کے بقول ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔محمد بشیر سے ملاقات لاہور میں ہوئی انہوں نے عمران خان کو وہ تیں قُرانی آیات بتائی جو ان کی ماں ان کی حفاظت کے لئے پڑھا کرتی تھی۔اس کے علاوہ انہوں نے چند ذاتی نویت کی باتیں بھی عمران خان کو بتائی تھی۔عمران خان پر مذہب اور روحانیت کا گہرا اثر ہے جو ان کی گفتار ، تحریروں اور تقریروں میں جھلکتا ہے۔
عمران خان کی شادی اور طلاق۔
اکسفرڈ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ عمران خان نے جمائمہ خان سے شادی کی جو 2004میں طلاق پر ختم ہوئی ۔ان کے جما ئمہ خان میں سے دو بیٹے سلمان خان اور قاسم خان ہیں۔عمران خان کی ذاتی زندگی میں وہ واقعات ایسے ہیں جن کا انہیں سب سے زیادہ ملال ہے۔پہلا ماں کا انتقال اور دوسرا جمائمہ خان سے طلاق۔عمران خان کو آج بھی یاد ہے کہ جمائمہ خان کہتی تھی تم کامیاب ہوئے بغیر کب تک سیا ست کرتے رہو گے۔جمائمہ خان تو نا اُمید ہو کر لند ن لوٹ گئیں لیکن عمران خان مایوس نہ ہوئے۔
سیاسی زندگی۔
1996 میں سابق کپتان عمران خان نے اپنی سیاسی جماعت تشکیل دی۔لیکن سیاست میں نوزائیدہ ہونے کی وجہ سے1997 کے عام انتخابات میں ان کی کارکردگی پزیرائی کے قابل نہ تھی۔2002 میں پہلی با ر عمران خان رُکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔2011 میں ان کے سیاسی قدکاٹھ اور مقام میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔عمران خان نے جنرل پرویز مشرف اور ان کے ریفرنڈم کی حمایت کی پرویز مشرف نے انہیں وزارت عظمی کی پیشکش بھی لیکن عمران خان کے خیالات بدل چکے تھے۔پرویز مشرف کی حمایت کو عمران خان نے ہمیشہ اپنی سیاسی نا سمجھی قرار دیا ہے۔پرویز مشرف کی لگائی گئی ایمرجنسی کے خلاف عمران خان نے سخت موقف اختیار کیا اور انہیں گرفتار کروایا گیا۔عمران خان نے 2008 کے انتخابات کا یہ کہتے ہوئے بائیکاٹ کیا وہ منصفانہ نہیں ہونگے۔اکتوبر 2011 میں عمران خان کی جماعت ایک نئی سیاسی قوت بن کر لاہور میں ایک جلسے کی صورت میں سامنے آئی جس میں لاکھوں کا مجمہ تھا۔اس حیران کن جلسے نے مخالفین کو دم بخود کر دیا۔اپنے پورے سیاسی سفر کے دوران عمران خان نے مختلف مسائل کے حوالے سے ٹھوس معقف اختیار کیا۔
انہوں نے ڈرون حملوں ،
فاٹہ میں فوجی آپریشن ،
غیر ملکی امداد اور کرپشن کی سخت مخالفت کی،
وہ جاگیردارانہ نظام کے خاتمے،
ٹیکس نظام میں اصلاح کے حامی ہیں۔
2013کے عام انتخابا ت میں تحریک انصاف نے خوب ڈٹ کر سال ہا سال سے چلتی آرہی دو جماعتوں کا سامنہ کیا۔
تحریک انصاف کی اصل قوت نوجوان ہیں۔